تم مقدر میں مرے ایسی عبادت کرنا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحسن اور عشق کی برپا ہے قیامت کرنا
میرے چہرے پہ نئی ایک شرارت کرنا
جس کے کرنے سے ملے پیار کی دولت مجھ کو
تم مقدر میں مرے ایسی عبادت کرنا
میں سناتی ہوں اندھیروں کو فقط دل سے کلام
شعر گوئی ہے مری آج بھی عادت کرنا
اپنے کاندھوں پہ لئے پھرتے ہیں جو پیار کا بار
ایسے انسانوں کو کردار محبت کرنا
وہ بھی لکھے گا کہیں پھر سے جفا کے قصے
تم بھی زرتاب خواہش کی حقیقت کرنا
موت برحق ہے مگر عشوہ گری میں لوگو
عشق میں جان جو جائے تو سعادت کرنا
ان کے اسرار و عمل کا ہے کہاں دفن جہاں
وشمہ ناقد کی طرح سب کی شناخت کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






