تم ملے تو زندگی اچھی لگی
Poet: Akbar Malik By: Akbar Malik, Karachiتم ملے تو زندگی اچھی لگی
بن تمہارے بے کلی اچھی لگی
چھوڑ کر گیسو ہوا کے دوش پر
اک ادا سے وہ ہنسی اچھی لگی
موسم سرما کی بھیگی رات میں
شال میں لپٹی ہوئی اچھی لگی
جانے کس کی سوچ میں ڈوبی ہوئی
آنکھ اس کی ادھ کھلی اچھی لگی
کہنا یہ کہ آتی ہے تازہ ہوا
کھڑکیاں وہ کھولتی اچھی لگی
بات میری اور مخاطب غیر سے
گفتگو کی یہ سعی اچھی لگی
ایک اس کے واسطے اکبر مجھے
شہر بھر کی دشمنی اچھی لگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






