تم نہیں ہو تو شاعری بھی نہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillروپ ۔ مسکان ۔ زندگی بھی نہیں
تم نہیں ہو تو شاعری بھی نہیں
جانے کب دوستوں نے جان بھی لی
بات جو آپ سے کہی بھی نہیں
ایک تو عشق بھی رہا لرزاں
اور کچھ حسن کی چلی بھی نہیں
آئی کس سمت سے کدھر کو گئی؟
زندگی ہم سے تو ملی بھی نہیں
خواہ مخواہ شوق تھک کے بیٹھ گیا
سوچ وہ سیڑھیاں چڑھی بھی نہیں
تیرے ہونے سے ہے وجود میرا
ورنہ احساس بندگی بھی نہیں
تیرے بن آفتاب بے معنی
چاند تاروں میں روشنی بھی نہیں
ابھی آئے ہو ابھی چل بھی دئیے
آرزو روگ میں ڈھلی بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






