تم کون ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreتم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس دل نے یہ دل نے پکارا تھا
تم وہی ہو جس کیلئے دل دربدر آوارہ تھا
تمہارے سامنے آتے ہی
نظروں کو ملا نظارا تھا
تمہیں ملنے سے پہلے
آنکھوں میں عجب خمار تھا
آنکھوں کو کسی کا انتظار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر بھی
نظر نے پکارا تھا
یہی وہ روپ سنہرا ہے
مدت سے دل میں جس کا بسیرا ہے
میرے دل کی بےترتیب دھڑکنوں میں
پنہاں اک خمار تھا کچھ سویا کچھ بیدار تھا
تم کون ہو کہ تمہیں دیکھ کر نظروں نے کہا
یہی ہے وہ کہ نظر کو جس کا انتظار تھا
آنکھوں میں لہراتے سایوں میں
چھپا بیٹھا جو شاہکار تھا
مضطرب نظر کی بے چینیوں میں
اسی تصویر کا عکس نمودار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس بے چین روح کو قرار آیا
بھٹکتی روح نے سکوں پایا
تم کون ہو کہ جس کے زندگی میں آنے سے
زندگی نے تکمیل کا احساس پایا تھا
میری ذات کا ادھورا پن میری حیات کا ادھورا پن
جسے دیکھ کے شرمایا تھا
اس ادھورے سائے نے وجود پایا تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
دل میں یہ خیال آیا تھا
قدرت نے تمہیں میرے لئے
مجھے تمہارے لئے بنایا تھا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام







