تم کیا جانو!
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratرونے والو
درد کہاں، کب کس لمحے
کس پور میں آ کر
اپنا آپ دکھا دیتا ہے
تم کیا جانو
تم کو تو بس خستہ حال پہ
رونا دھونا آتا ہے
تم کیا جانو
لاوارث سی خواہش کوئی
چھپ چھپ کر جب
ایک یتیمی کو روتی ہے
تم کیا جانو
درد سوتیلا بن کر کیسے
برتاؤ کرتا ہے اُس سے
تم کیا جانو
سرد ہوا میں
کن کن بھولے بسرے
بچھڑے لوگوں کے غم یاد آتے ہیں
تم کیا جانو
غم کی درد بھری آغوش میں
پل بھر آنکھیں بند کر لینا
اور کبھی پھر کھول نہ پانا
تم کیا جانو یہ سب کیسا ہوتا ہے
صحرا میں اک تنہا پیڑ کے سائے میں
پل بھر کو بیٹھو
تو معلوم پڑے نا تم کو
کھوکھلے خالی پیڑ سے
صحراؤں میں جھلستی دھوپ اور
مردہ لُو کا قصیدہ آ کے سنو
تو تم کو بھی معلوم پڑے نا
تم کو تو بس ہجر زدوں کا ماتم کرنا آتا ہے
تم کیا جانو درد پرستی کیا ہوتی ہے
تم کو تو بس اشک بہانے آتے ہیں
تم کیا جانو بے حالی اور
بے چینی کیا ہوتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






