تم ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreمیرا حاصل میری امید التجا تم ہو
میری دعا کا ثمر میری تمنا تم ہو
یوں تو کئی مسافر راہوں میں تھے مگر
میرے سفرکے لئے میرے راہنما تم ہو
دل و دماغ سے ہر نقش محو ہونے لگا
مگر جو ثبت رہا دل پہ وہ چہرہ تم ہو
مجھے آئینہ اور آرسی سے کیا مطلب
میرا سنگھار تمہی میرا آئینہ تم ہو
میرا دل اور کسی شے کا تمنائی نہیں
میری دولت میرا سرمایہ بے بہا تم ہو
کوئی شکوہ کوئی شکایتیں نہیں باقی
میری طرح سے مہربان باوفا تم ہو
میرا علاج کسی چارہ گر کے پاس نہیں
میری دوا میری دعا میری شفا تم ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






