تم ہو
Poet: Hussain ali By: Hussain ali, Hyderabadمیں سوچتا ہوں تمہیں،اور خیال میں تم ہو
میں منتظر ہوں،میرے انتظار میں تم ہو
میں چاھتا ہوں میرا ہر سوال ہو پورا
میں کیا کروں کہ میرے ہر سوال میں تم ہو
بھلا میں روشنی کو کس طرح محسوس کروں
کہ روشنی اور میرے درمیان میں تم ہو
میں اس امید پہ ہوں،کیا پتا تمہیں اِک دن
پتا چلے میرے وہموگمان میں تم ہو
مجھے کرنی تھی تم سے کچھ ضروری باتیں مگر
میں کیا کروں کہ میری بات بات میں تم ہو
اکیلے بیٹھوں تو آتا ہے یہ خیال مجھے
خدا جو لے چکا اُس اِمتحان میں تم ہو
خدا عطا کرے اُسے،وہ جو بھی چاھے ”حُسین“
مجھے نہ ملنے والے ہر جواب میں تم ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






