تم ہی کہو کہ زیست کو زر دار کر دیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادعوٰی کرے نہ عشق کو بیدار کر دیا
اک برگِ گل جو لائے ہے دیدار کر دیا
یہ زندگی اٹھا کے اڑوں آسمان تک
ہمت کی داستان کو شہوار کر دیا
دیکھے ہیں کتنے آدمی راہِ حیات میں
اب زندگی کے ساتھ کو گفتار کر دیا
بے چہرہ زندگی ترے خوابوں کے درمیاں
مشہور ہو گئی ہے طلبگار کر دیا
رکھیے تو دوستانہ مراسم بھی کس طرح
جب بھی ملے ہیں دونوں کو لاچار کر دیا --
تنہائیاں رفیق رہی ہیں تمام عمر
تم ہی کہو کہ زیست کو زر دار کر دیا
جب اُس نے میرے درد کو سمجھا نہیں کبھی
پھر پیار کی بھی مانگ سے انکار کر دیا
مرتے تھے جب فراق میں وہ دن نہیں رہے
یادوں کا اک ہجوم کو دشوار کر دیا
اس کو ہے کیا پتا کہ خزائیں بھی ہیں امر
آیا ہے ملنے آج جو بیمار کر دیا
ٹوٹے تو ٹوٹ جائے یہ بھی پیار کا محل
شیشے کے جیسا مجھ کو تو ہموار کر دیا
سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکام ہو گیا ہے وہ پر خوار کر دیا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






