تم یہ وفا جو شام وسحر مانگ رہے ہو
Poet: payam By: jan Kharoty, zhobتم یہ وفا جو شام وسحر مانگ رہے ہو
مجھ سےمحبت اخر کس قدرمنگ رہے ہو
خود تم بھی لیلٰی کی محبت مجھ سے کر
مجھ سے وفا مجنون کی اگر مانگ رے ہو
تم مسجد کو کہاں میکدے کا نام دیتے ہو
روز جو شراب تم اِدھر مانگ رہے ہو
اول اول محبت کے مزے اب کہاںملتے ہیں
عجیب ہو کہ وہی لزتیں اج اخر مانگ رے ہو
تم اس جہاں کو تنہا ہی تو آئے تھے پیام
اب جاتے ہوئے کیا ہمسفر مانگ رہے ہو
تم پیام اتنے محتبر کب سے ہوئے
کہ دیداریار اپنے گھر مانگ رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






