تنہائی
Poet: Muhammad Sarfaraz Chishtti By: Muhammad Sarfaraz, شاہدرہ لاہوروفا کے آنگن میں کھلتی ہے جب تنہائی
ختم ہونے کا پھر نام نہیں لیتی ہے یہ تنہائی
حد سے گزر جاتتی ہے جب تنہائی
بندھن سب توڑ دیتی ہے حوس کے یہ تنہائی
فکر انسانیت کو بدل دیتی ہے تنہائی
دنیاکی فکروں کو مٹا دیتی ہے یہ تنہائی
وفا کے آنگن میں کھلتی ہے جب تنہائی
محبوب کی جدائی کا بنتی ہے سبب یہ تنہائی
راز غموں کو سینے سے لگانا سکھاتی ہے یہ تنہائی
خو د کو زخموں کی سیج پہ لیٹاتی ہے یہ تنہائی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







