تو اگر بے نقاب ہو جائے
Poet: پیر نصیر الدین نصیر ؔ گولڑوی By: Muhammad Zubair, Chichawatniتو اگر بے نقاب ہو جائے
جستجو کامیاب ہو جائے
عکس پڑ جائے جو ترے رُخ کا
آفتاب آفتاب ہو جائے
دیکھ لے اک نظر اگر ساقی
سادہ پانی شراب ہو جائے
چھوڑ دو اگر میں تمہارا در
میری مٹی خراب ہو جائے
ہاتھ رکھ دو جو تم مرے دل پر
درد کا سَدِباب ہو جائے
ان کہ آنکھیں جو آئیں گردش میں
رونما انقلاب ہو جائے
شرح عشق و وفا لکھے جو نصیر ؔ
اچھی خاصی کتاب ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






