تو بھی سو جا چاند اکیلے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanدھیرے دھیرے خاموشی سے
رات کے بھیگے آنگن میں
برس رہپی ہے آنکھ سے شبنم
جانے کس کی یاد لیے
چاند بھی تنہا
میں بھی تنہا
جاگ رہے ہیں ہم دونوں
کون چرا کے نیند ہماری
ہم کو تنہا چھوڑ گیا
دیکھ کے اپنا اپنا چہرہ
جھیل کے ٹھہرے پانی مین
ڈھونڈ رہے ہیں خود کو شاید
ماضی کے ویرانوں میں
رات کی سردی میں کس کی
سانسوں کی گرمی پھیل گئی
یاد کے جلتے انگاروں پر
پھر حسرت نے آہ بھری
جاگتی آنکھیں دیکھ رہی ہیں
خواب جو پورے ہو نہ سکیں
تو بھی سو جا چاند اکیلے
مجھ کو بھی سو جانے دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






