تو ساتھ دیتا تو ھم بھی شاعری کرتے
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, ALKHOBARتیرے لبوں سے نغمؤں کی آرزو کرتے
تو ساتھ دیتا تو ھم بھی شاعری کرتے
تیری ہنسی کے ترنم پہ اک غزل لکھتے
تیری نظر سے چاھت کو اک سفر لکھتے
تیرے قدموں کی آھٹ کو ھمسفر لکھتے
تیری خشبؤ سے شعروں کو معطر لکھتے
بہت سی تمناؤں کی تجھ سے جستجو کرتے
تو ساتھ دیتا تو ھم بھی شاعری کرتے
تاج محل خوابوں کا تیرے نام لکھتے
جہاں بسیرا ھوتا تیرا اس قیام لکھتے
تجھے نظر میں سماتے تیرا احترام لکھتے
تیری اداؤں پہ ھم صبح و شام لکھتے
رات مہکتی تو تیرے آنچل پہ ھم وضو کرتے
تو ساتھ دیتا تو ھم بھی شاعری کرتے
آنکھ جھکتی تو نظر کو ھم حیاء لکھتے
قریب ھوتی تو ساتھ کو ھم وفاء لکھتے
ھر اک لمحے کو محبت کی انتہاء لکھتے
رقیب جلتے تو اسے تیری اداء لکھتے
ھر اک پل ھم تجھ سے ہی گفتگؤ کرتے
تو ساتھ دیتا تو ھم بھی شاعری کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






