تو لوٹ آ میری جانِ جاں
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabad اے میرے بدگماں
اے میری جانِ جاں
ذرا دیکھ دل کی آنکھ سے
میرے بدن پہ تیرے یہ نشاں
میری سانس سانس تیرے نام تھی
میری رگوں میں بہتے تھے تم ہی تم
اب ہو رہے ہو یوں زیاں
اے میرے بدگماں
اے میری جانِ جاں
میرے لہو لہو حروف سے
جو مٹیں اگر یہ دوریاں
تو میں آخری قطرے تک لکھوں
تیرے نام ہزاروں کہانیاں
تجھے لفظ لفظ سمیٹ لوں
تو لوٹ آ میری جانجاں
اے میرے بدگماں
اے میری جانِ جاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






