تو مجھ سے پیار مت کرنا
Poet: Sheikh Huma Ali By: Sheikh Huma Ali, Karachiکہا تھا نا کے او جانا
تو مجھ سے پیار مت کرنا
اکیلے چلنے کا جانا
ہنر آتا ہے مجھ کو تو
تو آکے میرے جیون میں
مجھے برباد مت کرنا
کہا تھا نا کے او جانا
تو مجھ سے پیار مت کرنا
بہت مضبوط لڑکی ہوں
کہ اس جنگل میں دنیا کے
اکیلے چلنا آتا ہے
مجھے کمزور مت کرنا
کہا تھا نا کے او جانا
تو مجھ سے پیار مت کرنا
ہاں میں مضبوط ہو اتنی
کہ گر ٹوٹی کبھی تب بھی
میں اپنے ٹکڑے خود چن کر
سنبھل کر چل پڑوں گی جاں
مجھے کمزور مت کرنا
تو مجھ سے پیار مت کرنا
کہا تھا نا کے او جانا
تو مجھ پر وار مت کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






