تو مرے عشق کا نصاب لگتا ہے
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadہجر موسم عذاب لگتا ہے
تیرا غم سیراب لگتا ہے
مری جانب بھی ہو گا کبھی نور تیرا
تو مجھے مہتاب لگتا ہے
ہجر میں ترے ہر لمحہ مجھ تک تھا
کیوں ہر لمحہ بےنقاب لگتا ہے
مرا اک لفظ کیا؟ ؟ کچھ بھی نہیں
تو مرے عشق کا نصاب لگتا ہے
یادوں کو روک نا سکی میں
یادوں کا آنا بےحساب لگتا ہے
برپا نا ہو جائے کچھ ڈر رہتا ہے
عشق میرا انقلاب لگتا ہے
جو جیت گیا مجھے مجھی سے
وہ شخص بڑا کامیاب لگتا ہے
بند آنکھوں میں جھلملاتا ہے
محبت کا خواب لگتا ہے
اظہار کرتا ہے دبے لہجے میں
ہلتا اس کا لب، مرا جواب لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







