تو کچھ اچھا نہیں لگتا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillسہاروں چھوٹ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
کناروں روٹھ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
بہاروں سے لدے پھولوں تمہی تو زندگانی ہو
مگر جب سوکھ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
اے میرے دل تمہاری ہر ادا سر آنکھ پہ میرے
مگر جب ٹوٹ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
مجھے مجھ سے چراتے ہو تو سب اک خواب لگتا ہے
مگر جب روٹھ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
تم آتے ہو تو ہر لمحہ تمہارے حسن میں ڈوبے
مگر جب لوٹ جاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
تمہارا ہی یقیں مجھ کو شعور زندگی بخشے
کبھی تم ڈگمگاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
میرے لفظوں میں رہتے ہو تو لمحے جھوم جاتے ہیں
کسی کے گیت گاتے ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






