تو ہے محفوظ تیری ماں کی دعاؤں کے عوض
Poet: عثمان حبیب By: Muhammad Usman Habib, Sadiqabadعشق تیرا تو سمندر سے بھی گہرا ہے میاں
دل تیرا ایسے میں دریا تو نہیں ہو سکتا
ہے ملوث یہاں ہر حال میں اِک آتشِ عشق
اور لوگوں نے یوں جلایا تو نہیں ہو سکتا
اس کو ڈھونڈنے تو کہیں درد کے صحراؤں کے بیچ
گھر سے نامید نکلا تو نہیں ہو سکتا
بھولا بیٹھا ہے مجھے اس طرح مدت سے وہ شخص
اس قدر مجھ سے بیگانہ تو نہیں ہو سکتا
تو ہے محفوظ تیری ماں کی دعاؤں کے عوض
تیرے سر پہ بُرا سایہ تو نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






