تُو کن رنگوں کے لفظوں سے
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: Full Love Poetry, Portoتُو کن رنگوں کے لفظوں سے
اپنے فحش سوالوں کے ناخن بڑھاتی ہے
خوابوں کی دھندلی لذت میں
لڑکوں کی نیندیں اُڑاتی ہے
اپنے پرس کے آئینے میں
توُ خفیہ شَکل چھپاتی ہے
امرودوں سی چھاتیاں جن پر
ململ کی باریک سی دھوپ بچھاتی ہے
تیری جیبوں میں جنگلی دیو مالا
اور چہرے پر دھوئیں کا ہالہ بناتی ہے
اپنی شطرنجی جیسی آنکھوں میں
تُو کیسے نقشے بناتی ہے
کس غیبی بوسے کی خاطر
تیرے لب یوں کھلے ہوئے ہیں
آ ، میں تجھ کوخواہش کے
عریاں موسم میں رنگ لگاوں
بانہوں کے اِیزل پر تیرا چہرہ رکھ کر
ہونٹ سے تیری شکل بناؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






