تکلیف دہ یادیں
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیوہ خود بنے بیٹھے ہیں خدا اپنی ہی سوچوں میں
کبھی جنرنیل تو کبھی سیاسی لیڈر کی شکلوں میں
غلط پالیسیوں کے سبب جھیلتی ہے تکلیفیں عوام
رہتے ہیں خودنمائی ،آرام و سہل کے محلوں میں
ایسی ہزاروں تاریخیں رقم ہوجائینگی یادوں میں
پر کسی امیر زادے کا بچہ نہ مرے گا اسکولوں میں
اس ملک میں طاقتور ہی اصل حقدر سمجھا جاتا ہے
غریب کی قسمت، امیر کےپاؤں کے تلوؤں میں
ریاست و حکومت جدا جدا چلتی ہیںاس ارض پاک میں
رخ بدل، سوچ بدل،احساس بدل ہےانکے ذہنوں میں
تقسیم کردیا ہے ریاست و حکومت کے ایوانوں نے
عوام بیچاری لاغر ہے ،قرض ا ور مہنگائی کے پہاڑوں میں
ہر کوئی لیئے پھرتا ہے لیڈر اپنے حسین و لاجواب منشور
نہ کیا کسی نےفلاح عوام اور نہ کریگا کوئی حقیقتوں میں
اے ریاض ! اسے میں بدقسمتی کہوں یا عوام کی بے حسی
کہ سب کے سب بنیں بیٹھے ہیں،عصبیت و تعصبوں میں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں ))
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






