تھی بھینی بھینی فضا باغ مہکا مہکا تھا
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.SIDDIQUI, Lucknowتھی بھینی بھینی فضا باغ مہکا مہکا تھا
بہار بن کے یہاں آج کوئی آیا تھا
ہمیشہ ساتھ رہا بن کے ہمسفر میرا
وہ کوئی اور نہیں بس میرا ہی سایا تھا
نہ فاصلے ہی گھٹے اور نہ تشنگی ہی گئی
وہ بس سراب تھا میں جس کے پیچھے بھاگا تھا
گلوں کے بیچ کٹی اس کی ساری عمر مگر
عجیب شخص تھا کانٹوں سے پیار کرتا تھا
پھر اس کے بعد تو سارے بھرم ہی ٹوٹ گئے
ہماری آنکھوں نے منظر ہی ایسا دیکھا تھا
زمیں سے تابفلک بس اسی کے جلوے تھے
حسن کم عقل تھا انساں کی کھوج سمجھا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






