تیرا حسن ہو میرا عشق ہو
Poet: AAzi By: AAzi, Guranwalaتیرا حسن ہو میرا عشق ہو
تو پھر حسن ہ عشق کی بات ہو
کبھی میں ملو کبھی تو ملے
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو
کبھی تو ہو چپ کبھی میں ہو چپ
کبھی دونوں ہم چپ چاپ ہو
کبھی گفتگو کبھی تزکرے
کوئی ذکر ہو کوئی بات ہو
کبھی وصل ہو تو دن کو ہو
کبھی ہجر ہو تو وہ رات ہو
کبھی میں تیرا کبھی تہ میرا
کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں
کبھی ساتھ میں کبھی ساتھ تو
کبھی ایک دوجے کے ساتہ ہو
کبھی محبتیں کبھی رنجشیں
کبھی دوریاں کبھی قربتیں
کبھی الفتیں کبھی نفرتیں
کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو
کبھی پھول ہو کبھی دھول ہو
کبھی یاد ہو کبھی بھول ہو
نا نشیب ہو نا فراز ہو
نا ہی نیچ ہو نا ہی ذات ہو
رہیں مسکراتے پیار میں
کھلیں پھول بن کے بہار میں
نا زمین کوئی نا فلک کوئی
نا وجود ہو نا ذات ہو
بس میں ہوں اور تیری ذات ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






