تیرا دل پہ یہ ادھار لوٹاؤں گا کیسے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتیرا دل پہ یہ ادھار لوٹاؤں گا کیسے
ہاں یوں پھر خود پہ سدھار لاؤں گا کیسے
کلیوں پر بہت بھنورے ہیں چوکس
اُس گلشن میں بار بار جاؤں گا کیسے
گرد تو سبھی مزاج انوکھے ہیں
آنکھ سے آنکھ یوں ملاؤں گا کیسے
دل تو رنگینوں میں گمنامی چاہتا ہے
مگر خود کو کھوکر پاؤں گا کیسے
امن میں خلل کے سوا کچھ بھی نہیں
عشق کے اس آزار کو سمجھاؤں گا کیسے
کچھ بغض پہلے بھی ٹھہرتے ہیں سنتوشؔ
عذاب پہ عذاب پھر نبھاؤں گا کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






