تیرا نام لکھ دیا
Poet: شہبیب ہاشمی By: شہبیب ہاشمی, Al-Khobar K.S.Aمہکی فضاؤں نے جو تیرا نام لکھ دیا
ہم نے بھی اپنا آپ تیرے نام لکھ دیا
تعمیر جو کیے تھے محل اپنی وفاؤں کے
چاہت کے اس نگر کو تیرے نام لکھ دیا
آنکھوں کو جب ہوئی طلب تیرے دیدار کی
بھیگے لبوں پے مدھوشی کا نام لکھ دیا
ہم سرخ رو تھے ہم کو وفا کا شعور ہے
اپنے جنوں کو عاشقی کے نام لکھ دیا
ہر اک ورق پے تیرے تصور کے رنگ ہیں
اور دل کی کتاب میں بھی تیرا نام لکھ دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






