تیرا ہجر مجھ کو
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Sialkot, Pasrur, Saukin Windتیرا ہجر اب مجھ کو رونے بھی نہیں دیتا
رات کو چاہوں سونا تو سونے بھی نہیں دیتا
کئی بار کی ہے تمنا کہ بھول جاؤں تجھ کو
عشق تیری یادوں کو کھونے بھی نہیں دیتا
رنگ تیری تصویر کے مٹا دوں میں کیسے
وعدہ وفا کا یہ رنگ دھونے بھی نہیں دیتا
ڈر ہے نہ پڑھ جائیں ماند تیز دھوپ میں
ہار گلوں کے وقت پرونے بھی نہیں دیتا
سوچتا ہوں کہ تیری محبت میں کتنا مزہ ہے خالد
میں چاہوں کسی کا ہونا تو ہونے بھی نہیں دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






