تیرا ہی نظارہ نظروں میں
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں تجھے چاہتا ہوں تجھے چاہت ہے کس کی
میری حیات تیری تیری نہ جانے کس کی
تیرا ہی نظارہ نظروں میں سمایا ہے
اور تو پوچھتا ہے یہ تصویر ہے کس کی
میرے لبوں پہ شام و سحر تیرا نام ہے
دل میں تیری یاد ہے تیرے سوا کس کی
دل کی کتاب تم بھی اک بار پڑھ کے دیکھو
اور پھر بتاؤ دل نے تحریر لکھی کس کی
کوئل ہے یا بلبل کے نغموں کی صدا ہے
پھولوں کو گدگدائے جانے پکار کس کی
محبت چاہنا ہے اور چاہتے ہی جانا ہے
مطلوب مل جائے تو چاہت رہے کس کی
عظمٰی جو خواب ہم نے نیندوں میں سجائے
آنکھوں نے جنہیں پالیا تعبیر ہے یہ کس کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







