تیری بے رُخی پہ بھی گلہ نہ کروں
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarتُجھ سے آکے کبھی ملا نہ کروں،
تیری بے رُخی پہ بھی گلہ نہ کروں،
محبت میں اتنا حق تو ہے حاصل،
محبت تو نہیں پابندِ سلاسل،
تُو کسی اور کو چاہے یہ گواراہ نہ کروں،
تیری بے رُخی پہ بھی گلہ نہ کروں،
کبھی تم نے محبت کا نہ اظہار کیا،
صاف ظاہر ہے، تم نے کبھی نہ پیار کیا،
پھر بھی تٰرک تم سے سلسلہ نہ کروں،
تیری بے رُخی پہ بھی گلہ نہ کروں،
تیری محبت نہ ملی تو میں مرجاؤنگی،
لحد کی تاریکیوں میں اُتر جاؤنگی،
تُو کسی اور کو چاہے یہ گواراہ نہ کروں،
تیری بے رُخی پہ بھی گلہ نہ کروں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






