تیری تصویر سینے میں نگاہوں نے اتاری ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعجب لہروں سا موسم ہے عجب سی بیقراری ہے
اے میرے ہم نشیں بتلا یہ کیسی رازداری ہے
میری وحشت کے ہاتھوں میں ہیں سارے رنگ لمحوں کے
وہیں سورج کو دیکھا ہے جہاں پر شب گزاری ہے
خمار میکدہ غائب ۔ ہجوم میکشاں غائب
مگر اس حسن کا ابتک نظر میں رقص جاری ہے
ذرا اپنے تبسم کا نظارہ کرنا درپن میں
تمہیں معلوم ہو کیونکر یہ بازی میں نے ہاری ہے
انہی اشکوں سے پھوٹے گی نئی صبح بہاروں کی
میری آنکھوں میں ہی تازہ گلوں کی آبیاری ہے
تجھے اب کون مجھ سے چھین سکتا ہے زمانے میں
تیری تصویر سینے میں نگاہوں نے اتاری ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






