تیری تصویر نگاہوں میں سجانے کیلیے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadتیری تصویر نگاہوں میں سجانے کیلیے
میں چلا آتا ہوں تجھے اپنا بنانے کیلیے
تیری محفل میں آکر بھی چپ چاپ چلا جاتا ہوں
روز آتا ہوں میں حالِ دل سنانے کیلیے
میری طرح تو بھی دیوانہ ہو میرا شاید
یہ بھی کہتا ہوں کبھی میں دل بہلانے کیلیے
تو میری جان ہے کیسے میں چھپاؤں خود سے
روز ڈھونڈتا ہوں تجھے دل میں بسانے کیلیے
پھر نہ کہنا کہ تم بلا مقصد ہی چلے آتے ہو
میں تو آتا ہوں تجھے تجھ سے چُرانے کیلیے
تو دیکھ لیتا بے کبھی مسکراہٹ سے مجھے
اتنا ہی کافی ہے تیرے اِس دیوانے کیلیے
تو میرا ہو کر بھی، میرا نہیں پھر بھی لیکن
میں چلا آتا ہوں صبر آزمانے کیلیے
میری حالت ہے عجب تم کیا جانو گے صنم
روز کرتا ہوں تجھے یاد بھول جانے کیلیے
میرے جیسے بیں باقی اب تلک بھی دیوانے
ہے بڑی بات یہ بھی ساجد اس زمانے کیلیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






