تیری جوانی تجھے مبارک
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attockجس ادا پہ غرور ہے تجھے، وہ ادا اس میں بھی ہے
میں جی رہا ہوں تیرے بغیر، اتنا شعور اس میں بھی ہے
نہ طلب مجھے تیرے پیار کی، نہ تیرے وعظ و نیاز کی
تیری جوانی تجھے مبارک، تیرے بنا ہی مجھے سرور ہے
گر سمجھوں میں تجھ کو بے وفا، اس میں میری کیا خطا
نہ خلل ہے میرے دماغ کا، نہ میری نظر کا قصور ہے
میں نکل چکا تیرے دام سے، نہ گرا کبھی اپنے مقام سے
میں جاوید ہوں سچ ہے یہی، میرا پیار ہی اب میرا غرور ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






