تیری خوش قامتی پر میری نظر کیا کہنے
Poet: عدنان نصیر By: عدنان, Karachiتیری خوش قامتی پر میری نظر کیا کہنے
یہ ترے بندِ قبا تیری کمر کیا کہنے
اف یہ ایڑی کا گھمانا یہ پلٹنا تیرا
چکرا کے رہ گئے اک بار بھنور، کیا کہنے
تیرے لفظوں سے چمک اٹھے خدو خال مرے
لب ترے چاندنی کی راہ گزر، کیا کہنے
دل کسی طور کسی سے نہ سنبھالا جائے
آئنہ بھی کہے اتنا نہ سنور، کیا کہنے
اتنا پیارا ہے مجھے جانِ ادا جانِ غزل
جیسے صحرا کے مسافر کو شجر، کیا کہنے
ان کی حیرت پہ میں حیران ہوا جاتا ہوں
ہے ترے دیکھنے والوں پہ نظر، کیا کہنے
دِل کَشی حُسن میں ہے جادو بیانی سے تری
اے مرے حلقہِ اربابِ ہنر! کیا کہنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






