تیری سادگی سے چاند بھی جلنے لگا یے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadتیری سادگی سے چاند بھی جلنے لگا ہے
پا کر رو برو تجھ کو وہ بھی ڈھلنے لگا ہے
گلشن میں تیرے نام سے ہے بہار آئی ہوئی
اور ہر شجر تیرے حُسن کا دم بھرنے لگا ہے
اِک دل تھا جسے خود پہ ناز تھا بہت مگر اب
تیری بہکی ہوئی جوانی پہ مرنے لگا ہے
کبھی گرمی کبھی سردی، کبھی خزاں کبھی بہار
موسم بھی تیرے اشاروں سے چلنے لگا ہے
آنکھوں میں ہو خماری تو یہ دنیا بہک جائے
مئے خانہ سا نگاہوں میں تیری بننے لگا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






