تیری پلکوں پہ اشکوں کے ستارے رقص کرتے ہیں
Poet: Arif Hussain Arif By: Qasim Raza, Faisalabadتیری پلکوں پہ اشکوں کے ستارے رقص کرتے ہیں
تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جذبے رقص کرتے ہیں
تو خالق ہے، تو مالک ہے، تو ارفع ہے۔ تو اعلٰی ہے
دو عالم میں تیری قدرت کے جلوے رقص کرتے ہیں
ابھی سورج نے دستِ صیح پر آ نکھیں نہیں کھولیں
ابھی تو دامنِ شب پر اندھیرے رقص کر تے ہیں
یہ کون آیا ہے گلشن میں یہ کیسا شور برپا ہے
صبا اٹھکیلیاں کرتی ہے پتے رقص کرتے ہیں
تیرے ہونٹوں کی لالی میں محبت رقص کرتی ہے
تیرے ہاتھوں، تیرے کانوں میں گہنے رقص کر تے ہیں
تو سرتاپا محبت ہے، تیرا چلنا قیامت ہے
زمیں انگڑائیاں لیتی ہے، رستے رقص کرتے ہیں
لچکتی شاخ نے مجھ سے کہا ایک دن عارف
جنھیں دنیا میں رہنا ہو وہ گاتے، رقص کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






