تیری چاہت میری معصومیت پہ چھائے جاتی ہے
Poet: Maria ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabadتیری چاہت میری معصومیت پہ چھائے جاتی ہے
طبیعت ان دکھے طوفان سے گھبرائے جاتی ہے
میں تیری آرزو کے شہر میں اب بھی پریشاں ہوں
جنوں کی انتہا اک آگ سی دھکائے جاتی ہے
تمہارا نام کیا جاگا تمنا کے جزیروں میں
میری ہر اک ادا خود مجھ سے بھی شرمائے جاتی ہے
میری جاں جب سے ڈوبی ہوں میں اس خاموش الفت میں
میری تو روح بھی ہر بزم سے اکتائے جاتی ہے
مجھے اب بھی محبت کی وہ بانہیں یاد آتی ہیں
تبھی تو ہر گھڑی وہ جنتیں دکھلائے جاتی ہے
فقط سوچیں نہیں ہمدم فقط نیندیں نہیں ہمدم
تمہاری ذات میری ہر گھڑی پہ چھائے جاتی ہے
میں جب بھی سوچنے لگتی تیرے پیار کو جانی
محبت کی تڑپ اک آئینہ دکھلائے جاتی ہے
یہ موسم کس قدر رمان پرور ہے مگر دوری
یہ دوری وصل کی خواہش کے آڑے آئے جاتی ہے
تمہارے لفظ تیری ماریہ کو یوں لبھاتے ہیں
کہ اک انجان سی خواہش مجھے تڑپائے جاتی ہے
یہ دوری کھائے جاتی ہے غضب سا ڈھائے جاتی ہے
مگر احساس کی نرمی مجھے سہلائے جاتی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






