تیری چاہت کیوں مجھ سے بے وفا ہو گئی
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadدل کی آرزو تباہ ہوگئی
محبت پھر سزا ہوگئی
خیالات کی دنیا میں نہیں رہنا
گر جدائی بے پناہ ہوگئی
ترس تم کو آتا نہیں میری حالت پہ
بے حسی کی محبت میں کیا خطا ہو گئی
یقین تو کر لیتے اک دفعہ میری چاہت پہ
ایسی بھی بے یقیقنی کی کیا انتہاہ ہو گئی
میرا دل فالتو لگتا ہے نا جو تمہیں چاہتا ہے
تمہاری محبت ایسی کیا قیمتی جو اتنی انا ہوگئی
تم لفظوں کے بازی گر ہو لفظوں سے جیت لو گے ھر دل
میں سادہ سی لڑکی تھی اس میں میری کیا خطا ہوگئی
میری محبت میں کھوٹ نہیں قسم خدا کی
تیری چاہت کیوں مجھ سے بے وفا ہوگئی
تمنا کے جزیروں میں جب بھی جاگا تیرا نام
لمحوں کی دوری کیوں صحرا ہو گئی
کسی کے سامنے اظہار نہیں کر پاتی میں
عزت تیری میری حیا ہو گئی
تونی کبھی مجھے چاہ ہی نہیں
میرے دل کو بار بار تیری چاہ ہو گئی
ہمشہ کے لیے جب چھوڑ جاؤں گی یاد آؤں گی
پھر تم ہی پکارو گے کیوں ماریہ تم جدا ہوگئی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






