تیری کمی ہے
Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIAہے پاس میرے سب پر اک تیری کمی ہے
میری ہر صبح میری ہر شام میں تیری کمی ہے
چاروں طرف خوشیاں ہیں رونقیں ہیں پر تیری کمی ہے
ہیں سامنے بہت سے دلکش نظارے پر ہر نظارے میں تیری کمی ہے
سب اپنا حال دل بتاتے ہیں مگر ان بتانے والوں میں تیری کمی ہے
یوں تو ہم اپنے درد دل کسی کو بتاتے نہیں مگر جب بتانا چاہا
تھے سننے کو پاس میرے سب پر اک تیری کمی ہے
ویسے تو ہم روٹھتے نہیں ہیں پر اگر روٹھ بھی جائے تو ہیں پاس میرے سب
منانے کے لیے پر تیری کمی ہے
میری زندگی گزر رہی ہیں تنہا پر میری تنہائیوں میں تیری کمی ہے
میرے اپنے دیتے ہیں دعا مجھ کو پر ان دعاؤں دینے والوں میں تیری کمی ہے
رکھتے ہیں سب ہمارا خیال بہیت پر ان خیال رکھنے والوں میں تیری کمی ہے
کرتے ہیں سب ہی ہم سے پیار پر ان پیار کرنے والوں میں تیری کمی ہے
بن جائے ہمارا نام بھی خوب صورت بس تیرے نام جڑنے کی کمی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام







