تیری یاد میں خود کو سنواروں جو نہ سنواروں تو کیا کروں پھر
Poet: Wadood Panchi By: Abdulwadood, Chiniotتیری یاد میں خود کو سنواروں جو نہ سنواروں تو کیا کروں پھر
میں دردِ دل میں تجھے پُکاروں جو نہ پُکاروں تو کیا کروں پھر
میں تیری ہستی کا اِک شجر تھا جو تیرے بسنے سے تھا شاداب
اب تیرے بِن خود کو اُجاڑوں جو نہ اُجاڑوں تو کیا کروں پھر
کہیں عشقِ کامل میں تیری واحدت میں ہو نہ جائے شریک کوئ
میں دنیاں بھر سے ہی بِگاڑوں جو نہ بِگاڑوں تو کیا کروں پھر
تو ہی تو دل کی منتیں ہیں تجھ سے ہی دعائیں عبادتیں ہیں
میں تیرے صدقے کیوں نہ اُتاروں جو نہ اُتاروں تو کیا کروں پھر
زرا تڑپ کر زرا سسک پھر تیری آس میں بلک بلک کر
میں شبِ ہجر کو یوں گُزاروں جو نہ گُزاروں تو کیا کروں پھر
میری جان و روح اُکتا چکے ہیں پنچھی میرے جسم قفس سے
تو میں جاں تجھ پہ کیوں نہ واروں جو نہ واروں تو کیا کروں پھر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






