تیری یاد
Poet: Dr Ch Tanweer Sarwar Shakar By: Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahoreگھٹا نے جو آنسو بہائے تو تم یاد آئے
محبت کرنے کے بعد ہم بہت پچھتائے
تم بچھڑ کر مجھ سے ہو گئے دور بہت
ہیں ڈراتے اب نجھے اجنبیوں کے سائے
نہ جانے اب کہاں ہو گی تم سے ملاقات
لوٹ آئو جلد ہیں ہم بہت گھبرائے
ترس گئی آنکھیں میری،تجھے دیکھنے کو
ہے اندھیرا آنکھوں میں ،کتنے دیپ جلائے
ہو گئی دیوانگی سی شاکر ہمیں محبت میں
بن تیرے صنم اب کوئی اور نہ بھائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






