تیرے بن رہ نہیں سکتی جاناں
Poet: وشمہ خان وشم By: وشمہ خان وشم, MOSCOWتیرے بن رہ نہیں سکتی جاناں
میں کسی کی ہو نہیں سکتی جاناں
کیا گزرتی ہے میرے دل پر
کسی سے کہہ نہیں سکتی
تیرے نام کی خوشبو
میرے ہر پل ساتھ رہتی ہیں
زندگی میں محبت جاناں
اک بار ہی ہوتی ہے
نظر سے جب نظر مل جائیں
میری امیدوں کے پھول کھل جائیں
تیرے پیار میں ہم نکھر جائیں
سنو جاناں!
میرے دل میں جب اترتے ہو
میری روح بن کر کھلتے ہو
تیری باتیں پرانی ملاقاتیں
مجھے جب یاد آتی ہیں
مجھے ستاتی رہتی ہیں
تیری یاد کا ہر موسم
میرے اندر بکھرتا ہے
تیرے بن میں رہ نہیں سکتی
تیرے بن میں ادھوری ہوں
ہاں ادھوری ہوں جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






