تیرے حجاب میں قدرت کے سات پردے حائل ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتیرے حجاب میں قدرت کے سات پردے حائل ہیں
ہر نین یہ مغلوب اور دل میں خوش اندام مائل ہیں
یوں تو مجھے اِن دیدوں کی بھی مفلسی رہی ہے
رہو اگر سود مند تو تیرے ہی در کے سائل ہیں
دنیائے رغبت کچھ بھی ہو لیکن شفقت بخش نہیں
جو ہاتھ دعاؤں لیئے اٹھے وہ بھی آج گھاءِل ہیں
بے حس کردیا ہے عاجزی نے اِنکسار کرتے کرتے
حیوانیت نے یوں محاصرے میں رکھا کہ یہ جاہل ہیں
مجھے تو سُر تال کی ہر ساکت نے بتایا کہ
سبھی ردم یہی تیری پاؤں کی پایل ہیں
رسم الفت میں بے باکی ہوئی تو رسوائی کے ساتھ
کبھی وہ انتہا بھی نہیں ملی جن کے ہم قائل ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






