تیرے حسن کو فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
Poet: ماریہ غوری By: ماریہ غوری, HAROONABADتیرے حسن کو فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
تیری سنہری زلفوں کی کو پرندے شام کہتے ہیں
تیری چشم میں ڈوب کر دیکھا ہے دھوپ نے بھی
تیری نلیگی آنکھوں کو سمندر کا جام کہتے ہیں
وہ ملائم تیرے گالوں سے بارش کی بوندوں کا بہنا
شاعر! اس منظر کو صبح کا پیغام کہتے ہیں
تیرے ریشمی ریشمی ہاتھوں سے پنچھیوں کا پھسل جانا
ہم تیرے حسن کو قدرت کا عظیم انعام کہتے ہیں
تیری پلکوں سے ٹوٹ کر گرے گر اک بھی بال
اسی کو خزاں کا اعلان عام کہتے ہیں
وہ نرم نرم کلائیوں میں چوڑیوں کا وزن
اسی مصرعے کے ساتھ غزل کو اختتام کہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






