تیرے در کی اگر فقیر ہوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیرے در کی اگر فقیر ہوں میں
اب محبت میں بے نظیر ہوں میں
تن پہ کپڑے نہیں ہیں صاف مگر
پیار و الفت کی پر سفیر ہوں میں
اُس کی نظروں سے گر کے پستی میں
اپنی ہستی میں کب حقیر ہوں میں
جس نے سر عشق کا بلند کیا
اپنے رانجھے کی اب بھی ہیر ہوں میں
وہ بھی پڑھتا رہا ہے غالب کو
جس کی نظروں میں آج میر ہوں میں
اپنی باتوں سے کر دے جو زخمی
وشمہ نظروں کا ایسا تیر ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






