تیرے ساتھ بیتے تمام لمحے سہانے ہیں
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratتیرے ساتھ بیتے تمام لمحے سہانے ہیں
پھر اس کے بعد سب قید خانے ہیں
تیرے ساتھ کیے ہوئے وعدے
اے حسن رقصاں ہمیں نبھانے ہیں
کچھ اشعار جو کہے تیرے نام
تمھارے ورد میں بس گنگنانے ہیں
نجانے پھر کب مل پاؤ گے
نجانے ہمارے قرب میں کتنے زمانے ہیں
نگار خانہ ہستی میں کیسا یقین رکھیں
کہیں نہ کہیں تو اس کے قدم ڈگمگانے ہیں
تم تو شاید یاد بھی نہیں کرتے مجھے
میرے لبوں پہ فقط تیرے ترانے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






