تیرے سا تھ تھے گزرے بہار موسم
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratتیرے سا تھ تھے گزرے بہار موسم
یو ں تیرے میرے تعلق دار موسم
تو بچھڑا ہے تو لوٹ کے نہ آیا واپس
آگئے لو ٹ کے وفا دارموسم
تو بھی لوٹ آ محبت بھرے دل کے ساتھ
تو لا پھر سے پیا ر موسم
دھوپ چھاؤں سا ہے تیرا مزاج
تجھ سے ہی ہیں میرے یا ر موسم
میری ڈائری میرے اشعار بکھیر دیتے ہیں
آجاتے ہیں جیسے سزاوار موسم
بانہوں میں بھر کے وہ پہلے سا پیا ر دے دے
کبھی آکے ایسا پھر وار موسم
بدل دیتی ہے جیسے بارش دل کا موسم
اے کاش ! گرا دے ایسے ہر دیوار موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






