تیرے شہر سے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadتیرے شہر سے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں
تیرا نام اپنے نام سے ہم ملا کر چلتے ہیں
تیری طرح تیرے شہر کے لوگ عجیب ہیں
نرم ونازک ہاتھوں میں بھی پتھر اٹھا کر چلتے ہیں
ہم سے نہ پھر کہنا کیوں آجاتے ہو مرنے کو تم
تیرے شہر کے بھی لوگ تو دل دُکھا کر چلتے ہیں
اب تو نہیں ہے وہ وقت، جب روتے تھے کر کہ یاد
اب تو یادِ ماضی کی ہم ، مرہم بنا کر چلتے ہیں
جب بھی گزرتے ہیں نیا اپنا انداز ہوتا ہیں
نئے اب زخم لے کر ہم پرانے چھپا کر چلتے ہیں
تیری نسبت کا ہم اتنا احترام کرتے ہیں
کہ خاک شہر کی ہم آنکھوں سے لگا کر چلتے ہیں
ساجد ہمارے بعد، ہم پہ الزام نہ آ جائے
اس لیے ہم خالی ہاتھ سب کو دیکھا کر چلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






