تیرے عشق کا ہے انداز عجب
Poet: Shafique Shakir By: Shafique Shakir, Hyderabadتیرے عشق کا ہے انداز عجب، آزار بھی ہے تو قرار بھی ہے
تیری رسم و راہ اور رمز عجب، آسان بھی ہے دشوار بھی ہے
کیوں تیری رضا ہےعزیز تر، احساس تیرا کیوں قریب تر
تیرے حرف سزا میں دلبر، شکوہ بھی ہے اور پیار بھی ہے
نہ عقل میں آیا گماں میں یہ، میں نے کھوجا اس کو برسوں سے
تیری نظر کرم کی شان عجب، انکار بھی ہے اقرار بھی ہے
اعجاز تیری ہے محبت کا، یہ رنگ ہے تیری ہی الفت کا
اس عالم میں بس اک شاکر، نادار بھی ہے زردار بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






