تیرے عشق کی عمر قید چاہتا ہوں
Poet: ZULFIQAR ALI BUKHARI By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, RAWALPINDIتیرے عشق کی عمر قید چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ہو میری ہر سحر و شام تیرے نام سے
دیکھ تیرے عشق میں یوں ڈوبنا چاہتا ہوں
سچ ہے مراسم ہیں اور سے بھی مگر
پیار کی فقط تمہاری قید چاہتا ہوں
جدائی کے سب درد خوشی سے جھیلتا ہوں مگر
آنسو دیکھ کہ تمہارے جان لوٹانا چاہتا ہوں
فقط تمہیں ہی زندگی کا طواف رکھنا چاہتا ہوں
عشق میں بس تمہیں کعبہ رکھنا چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






