تیرے نام
Poet: Dr ch tanweer sarwar shakar By: Dr Ch tanweer Sarwar, lahoreمدہوش رہوں تو کہتی ہے دنیا تیرا سودائی ہے
اگر آ جائوں ہوش میں تو پھر تیری رسوائی ہے
لہو رستا ہے ہر زخم سے مرہم کرنے کے باوجود
کرتا نہیں نالہ کہ اس میں بھی تیری رسوائی ہے
کر لوں کنارہ مئے سے تو کیا توبہ ہے یہ ساقی
کر کے یہ توبہ دنیا کو دکھانے کی قسم کھائی ہے
اب تو آ جائو پاس میرے تنہائی میں خدا کے واسطے
میں ہوں ،تیری یاد ہے اور میری تنہائی ہے
گرا ہوں زمانے بھر کی نظروں سے آج شاکر
جاتا ہوں جدھر میں رسوائی ہی رسوائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






