تیرے پیار کی بستی
Poet: lubna By: LUBNA, NARANG MANDIیہ کیسی بستی ہے جہاں چلے آئے ہم
تیرگی سی چھائی لگتی ہے ہر سو
تیرے وصال کی خاطر میں نے
نہ جانے کس کس کو صدا دی ہے ہر سو
ڈرتا ہے دل ان سناٹوں سے
جیسے صحرا کی تصویر اتر آئی ہے ہر سو
اے میری دوستو قریب آؤ
مجھے وحشت سی ہوتی ہے ہر سو
لفظ بے رنگ سے ہو گئے میرے
گردوغبار سی اڑتی ہے ہر سو
شب تنہائی کے سناٹے میں
لگتی بےجا حقیقت ہے ہر سو
امید وفا لے کر آئے تھے یہاں نور
لیکن لگتی ہر چیز لہو کی پیاسی ہر سو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






