تیرے گلے لگ کر رو دینے کی حسرت مٹانے کی خاطر آ
Poet: anam By: anam, karachiآج میں بہت اداس ہوں مجھے مسکراہٹ دینے کی خاطر آ
دل بے جان کو توں میری جان زندہ کرنے کی خاطر آ
عرصہ گزر گیا تجھ سے بچھڑے ہوئے میرے ہم نشیں
درد کی شدت کم ہو رہی ہے پھر بڑھانے کی خاطر آ
خود سے بات کر کہ خود ہی رو دیتے ہیں ہم
تیرے گلے لگ کر رو دینے کی حسرت مٹانے کی خاطر آ
سارے ارمان میرے بجھ سے گئے ہیں او میرے صنم
بجھے ارمانوں کو پھر سے سلگانے کی خاطر آ
مسکراہٹ کا نقاب اوڑھے تھک سے گئے ہیں ہم
دل سے مسکرانے کی خواہش پوری کرنے کی خاطر آ
جاناں اداسیوں سے تعلق بھلے ہی جوڑ دینا میرا
تیرے ہجر کا نشہ پھر سے بڑھانے کی خاطر آ
کوئی دوست نہیں ملتا بے درد زمانے میں جان جاناں
تجھ سے دوستی کا رشتہ میرا نبھانے کی خاطر آ
تجھے دیکھوں نظر بھر کر پھر آنکھیں بند کر لوں میں
اک جو آخری ارمان ہے میرا پورا کرنے کی خاطر آ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






